Gulab Wali Shayari in Urdu

December 21, 2025
Written By Sajid Ali

Gulab wali shayari in Urdu symbolizes love, beauty, romance, and delicate emotions through the image of a rose. In Urdu poetry, the gulab is a timeless symbol that represents affection, elegance, and heartfelt feelings. Poets use the rose to express love, admiration, and the sweetness of relationships, making gulab wali shayari emotionally rich and visually appealing.

Urdu gulab shayari often blends romance with subtle pain, showing both the beauty and thorns of love. The fragrance and softness of the rose are compared to a beloved’s presence, while its thorns reflect the hardships of relationships. This balance of romance and reality makes gulab wali shayari deeply meaningful and relatable for readers who enjoy poetic symbolism.

For poetry lovers and websites, gulab wali shayari in Urdu is a popular search topic due to its romantic and aesthetic appeal. It attracts users looking for love poetry, romantic shayari, and symbolic Urdu verses. 2 Line Gulab Wali Shayari in Urdu | Heart Touching Gulab Wali Shayari in Urdu | love Gulab Wali Shayari in Urdu | Gulab Wali Shayari in Urdu For Your Love

Gulab Wali Shayari in Urdu

اگرچہ پھول یہ اپنے لیے خریدے ہیں
کوئی جو پوچھے تو کہہ دوں گا اس نے بھیجے ہیں

پھول تو پھول ہیں آنکھوں سے گھِرے رہتے ہیں
کانٹے بےکار حفاظت میں لگے رہتے ہیں

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے
پر ہمیں اُن میں تمہیں بھائے بہت

میں چاہتا تھا کہ اُس کو گلاب پیش کروں
وہ خود گلاب تھا اُس کو گلاب کیا دیتا

لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں
میں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں

ہم نے کانٹوں کو بھی نرمی سے چھوا ہے اکثر
لوگ بے درد ہیں پھولوں کو مسل دیتے ہیں

میں پھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہوئی
وہ شخص آ کے میرے شہر سے چلا بھی گیا

کانٹوں سے گزر جاتا ہوں دامن کو بچا کر
پھولوں کی سیاست سے میں بیگانہ نہیں ہوں

کانٹوں سے دل لگاؤ جو تا عمر ساتھ دیں
پھولوں کا کیا جو سانس کی گرمی نہ سہ سکیں

تو کہیں پھول سے بچھڑی ہوئی خوشبو تو نہیں
تیری باتیں بھی ہیں پروین کی نظموں جیسی

اگرچہ پھول یہ اپنے لیے خریدے ہیں
کوئی جو پوچھے تو کہ دوں گا اُس نے بھیجے ہیں

پھول ہی پھول یاد آتے ہیں
آپ جب جب بھی مسکراتے ہیں

پھول کھلے ہیں لکھا ہوا ہے توڑو مت
اور مچل کر جی کہتا ہے چھوڑو مت

خدا کے واسطے گل کو نہ میرے ہاتھ سے لو
مجھے بو آتی ہے اِس میں کسی بدن کی سی

تیرے لبوں کو ملی ہے شگفتگی گل کی
ہماری آنکھ کے حصے میں جھرنے آئے ہیں

اتنا ناراض ہو کیوں اُس نے جو پتھر پھینکا
اُس کے ہاتھوں سے کبھی پھول بھی آیا ہوگا

دل اگر دل ہے تو وابستہ غم بھی ہوگا
نکہت گل بھی کہیں گل سے جدا رہتی ہے

ہمیشہ ہاتھوں میں ہوتے ہیں پھول اُن کے لیے
کسی کو بھیج کے منگوانے تھوڑے ہوتے ہیں

کئی طرح کے تحائف پسند ہیں اُس کو
مگر جو کام یہاں پھول سے نکلتا ہے

آپ چھو دے کسی غنچے کو اپنے ہاتھ سے
غنچہ گل ہو جائے گا اور گل چمن ہو جائے گا

خوشبو وہی ہے وہی ہے نزاکت وہی ہے رنگ
معشوق کیا ہے پھول ہے وہ بھی گُلاب کا

پھول رکھ دیئے تیرے دروازے پر
اور دستک دے کر آگیا ھوں میں

اِک پھول محبت کا کِھلا تھا میرے دل میں
اور اس کا جھکاؤ کسی پتھر کی طرف تھا

پھر نظر میں پھول مہکے دل میں پھر شمعیں جلیں
پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام

آپ آؤ گے تو پھولوں کی برسات کریں گے
موسم کے فرشتوں سے میری بات ہوئی ہے

پھول ہے گلاب کا حسن ہے جناب کا
تصویر تیری میرے دل میں ہے کیا فائدہ اس نقاب کا

چپکے سے بھیجا تھا پھول انہیں
خشبو نے سارے شہر میں تماشہ بنا دیا

مجھ سے نہ مل سکے گا مزاج کسی کا
مجھے تو پھول بھی کالے پسند ہیں

اس نے جب پھول کو چھوا ہوگا
ہوش خوشبو کے اُڑ گئے ہوں گے

تو نے یہ پھول جو زلفوں میں سجا رکھا ہے
اِک دیا ہے جو اندھیروں میں جلا رکھا ہے

Leave a Comment