Yaad Poetry in Urdu

January 3, 2026
Written By Sajid Ali

Yaad poetry in Urdu beautifully expresses the feeling of remembering someone who is no longer close. It talks about memories that stay in the heart and mind, even when time passes. This poetry shows how a single thought, place, or moment can bring back strong emotions. Urdu poets use soft and emotional words to describe how memories quietly live with us.

Such poetry often reflects love, separation, and longing. It describes sleepless nights, silent tears, and hearts full of memories. Yaad poetry shows how remembering someone can bring both comfort and pain. These emotions feel real because almost everyone has experienced missing someone special in their life.

Yaad poetry in Urdu is loved because of its honesty and emotional depth. It helps people express feelings they cannot say openly. Reading this poetry gives relief to the heart and makes people feel understood. It teaches that memories never fade; they become a part of our life and stay with us forever. Yaad Poetry in Urdu Text | Yaad Poetry in Urdu 2 Lines SMS | Tumari Yaad Poetry in Urdu | Miss You Yaad Poetry in Urdu Text | Sad Yaad Poetry in Urdu

Yaad Poetry in Urdu

آج بھی اس کا انتظار کرتے کرتے دن گزر گیا
انا پرست لوگ ہیں مرضی سے یاد کرتے ہیں

میں جو اپنی چاہتوں کا حساب لینے بیٹھ جاؤں
تم تو صرف میرا یاد کرنا بھی نہ لوٹا سکو گے۔۔

مجھے نشہ ہے تجھے یاد کرنے کا دوست
اور یہ نشہ میں سر عام کرتا ہوں

اے دل غم نہ کر، وہ تجھے بھول نہیں سکتا
جب بھی تنہائی میں اداس ہوگا، یاد تجھے ضرور کرے گا

تم یاد نہیں کراتے تو ہم گلہ کیوں کریں
خاموشی بھی تو اک ادا ہے محبت نبھانے کی

شام ہوتے ہی چرا خوں کو بچھا دیتا ہوں
اک دل ہی کافی ہے تیری یاد میں جلنے کے لیے

مسلسل یاد رہنے کا میر ادعوی نہیں لیکن
وہ جب جب روئے گا میرے دلاسے یاد آئیں گے

جل رہے ہیں ہم کسی کی یاد میں اس طرح سے
نیند تو آرہی ہے مگر دل سونا نہیں چاہتا

کتنے مصروف ہو گئے ہیں کچھ یار پرانے
ملاقات نہ سہی یاد کرنا بھی گوارا نہیں کرتے

کہاں تلاش کرو گے ہم جیسے چاہنے والے
جو اپنی یاد سے بھی زیادہ تمہیں یاد کرتے ہیں۔

عجیب لوگوں کا بسیرا ہے تیرے شہر میں
غرورمیں مٹ جاتے ہیں مگر یاد نہیں کرتے

سبب جو ڈھونڈو گے تو عمریں بیت جائیں گی
کہا نہ یاد آتے ہو تو بس پھر یاد آتے ہو

میری مصروفیت کے ہر لمحے میں شامل ہے تیری یاد
سوچ میری فرصتوں کا عالم کیا ہو گا

آج پھر تیری یاد نے چھین لیا ہوش وحواس
فنا ہو جائیں گے ہم اگر یہی سلسلہ رہا

تیری مسکان تیرا لہجہ، تیرے معصوم سے الفاظ
کیا کہوں بس بہت یاد آتے ہو تم

یاد سب کچھ ہے ہجر کے صدمے ظالم
بھول جاتا ہوں دیکھ کے صورت تیری

پھول کھلتے کھل کے بکھر جاتے ہیں
یادیں دل میں رہتی ہے انسان بچھڑ جاتے ہیں

میرے کمرے میں ترتیب سے رکھے ہوئے ہیں صاحب
پھول، وعدے، دلاسے، میری جوانی اور تیر یادیں

صبح جب اُٹھوں تو آنکھ میں ایک آنسو ضرور ہوتا ہے
تمہاری یاد کا، تمہارے خواب کا، تمہارے انتظار کا

ضروری توہ نہیں ہے کی تجھے آنکھوں سے ہی دیکھیں
تیری یاد کا آنا بھی تیرے دیدار سے کم نہیں

ابھی تک دل میں روشن ہے تمہاری یاد کے جگنو
ابھی اس راکھ میں چنگاریاں آرام کرتی ہے

تیرے غرور کو دیکھ کر تیری تمنا چھوڑ دی ہم نے
ذرا ہم بھی تو دیکھیں کون چاہتا ہے تجھے ہم سے زیادہ

تجھے یاد کرنا نہ کرنا اب میرے بس میں کہاں
دل کو عادت ہے ہر دھڑکن پے تیرا نام لینے کی

اُسکی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو
دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں

مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے
نہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے

وقت گزر جاتا ہے، زخم بھر جاتے ہیں
یادیں مگر دل سے کبھی نہ جاتی ہیں

Leave a Comment